بدکار عورت کی زندگی میں انقلاب ایک ہی رات میں طوائف سے نیکو کار کیسے بن گئی

ربیع رحمتہ اللہ علیہ راتوں کو جاگتے اورکثرت سے نوافل ادا کرتے ۔ ان کی والدہ بیان کرتی ہیں: میں سو جاتی‘ اٹھتی تو دیکھتی کہ ربیع نماز پڑھ رہا ہے۔ پھر سو جاتی پھر اٹھتی تو دیکھتی

کہ ربیع ابھی تک نماز پڑھ رہا ہے۔ ماں دیکھتی کہ اس کا لخت جگر مسلسل آہ و بکا میں مصروف ہے تو نامور عالم دین مولانا عبدالمالک مجاہد اپنے ایک خصوصی مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔

ممتا کے ہاتھوں مجبور ہو کر بیٹے سے کہہ اٹھتی: بیٹے! تم اتنی زیادہ مشقت اور اتنی زیادہ محنت کرتے ہو‘کچھ دیر کے لیے سو جایا کرو۔ کچھ آرام بھی کر لیا کرو۔ ایک دن بیٹے کی محبت میں مغلوب ہو کر کہنے لگیں۔

یَا بُنَيَّ لَعَلَّکَ قَتَلْتَ قَتِیلًا‘ ’’لگتا یوں ہے کہ تم نے کسی کو قتل کیا ہوا ہے اور اس گناہ کو معاف کروانے کے لیے اتنی زیادہ مشقت اور محنت کر رہے ہو؟‘‘ ربیع جواب میں فرمانے لگے: ہاں‘ ہاں اماں جان! میں نے واقعی کس

ی کو قتل کیا ہے۔ والدہ کہنے لگیں: بیٹے ! تو پھر ہمیں بتاؤتم نے کسے قتل کیا ہے تاکہ ہم اس کے پاس جائیں اس سے قتل معاف کروا لیں۔ اللہ کی قسم! اگر مقتول کے ورثاء تمہیں اس طرح روتے پیٹتے دیکھ لیں تو تم پر

رحم کھاتے ہوئے تمہیں معاف کر دیں گے۔ ربیع کہنے لگے: اماں جان! جسے میں نے قتل کیا ہے وہ میرا اپنا نفس‘ میری جان ہی ہے۔ ’قَتَلْتُھَا بِالذُّنُوبِ وَالْمَعَاصِي‘ ’’

میں نے اسے اپنے گناہوں اور معصیت کے ذریعے قتل کر رکھا ہے۔ بد قماش لوگوں نے ربیع کو فتنے میں ڈالنے کے لیے ایک بدکار عورت کا انتخاب کیا۔

اس سے کہا: یہ ایک ہزار دینار پکڑو۔ وہ کہنے لگی: اتنی بڑی رقم مجھے کس مقصد کے لیے دے رہے ہو؟ کہنے لگے: یہ مبلغ ربیع بن خثیم کے ایک بوسے کی قیمت ہے۔ بس وہ تمہارا ایک بوسہ لے لیں تو

یہ ساری رقم تمہاری ہے۔ وہ تو بدکردار تھی‘ کہنے لگی: فکر نہ کرو‘ بات بوسے سے آگے تک جائے گی۔ ایک رات اس نے اپنے آپ کو بنایا‘ سنوارا‘ اچھے کپڑے پہنے‘ خوب بن ٹھن کر کوئی بہانہ بنایا اور ربی

ع کے پاس ایسے وقت میں چلی گئی جب وہ تنہا تھے۔ اس نے ان کے پاس جا کر اپنے جسم کے بعض حصوں کو عریاں کیا اور ان کے سامنے کھڑی ہو کر دعوت گناہ دینے لگی۔ ربیع کی نظر جب اس پر پڑی تو

تقریبا چیخنے کے انداز میں کہنے لگے: اللہ کی بندی! ذرا سوچو ‘اگر تم پر ابھی موت وارد ہو جائے۔ ابھی ملک الموت آ جائے تو اپنے رب کو کیا جواب دو گی

؟ ذرا غور کرو کہ اگر ابھی تم سے منکر نکیر سوال کریں تو تمہاری کیفیت کیا ہو گی؟ ذرا تصور کرو کہ تم اللہ رب العزت کے سامنے کھڑی ہو گی تو اپنے رب کو کیا جواب دو گی؟

دیکھو! اگر تم نے توبہ نہ کی تو ذرا اس جہنم کا تصور کرو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ ربیع کے الفاظ سے عورت کے دل پر چوٹ پڑی اور ا س پر خوف الٰہی طاری ہو گیا۔ وہ سابقہ گناہوں کے پیش

نظر اپنے انجام کے بارے میں سوچ کر کانپنے لگی۔عورت روتی‘ سسکیاں لیتی وہاں سے واپس بھاگی اور اس نے دل کی گہرائیوں سے اپنے خالق ومالک کے حضور سچی توبہ کر لی۔ اب اس کی حالت یکسر بدل چکی تھی۔

وہ راتوں کو قیام کرتی‘ دن کو روزہ رکھتی اور دن رات اپنی گناہ سے آلودہ گزری ہوئی زندگی پر تاسف کرتی ہوئی گڑ گڑا کر بارگاہ الہی میں روتی رہتی۔ حتی کہ وہ کوفہ کی عابد ہ مشہور ہوگئی۔کوفے کے بدقماش کہنے لگے:

ہم نے اس عورت کے ذریعے ربیع کو بگاڑنے کی کوشش کی‘ مگر ربیع نے تو اس بدکار عورت ہی کو تبدیل کر دیا‘ یہ ہمارے کام سے بھی گئی۔ قارئین کرام! آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ربیع کو اس عظیم فتنے کے سامنے کس

چیز نے ثابت قدم رکھا؟ کیا ان کے ہاں جسمانی طاقت یا شہوت کی کوئی کمی تھی؟ہرگز نہیں ! گناہ کے لیے نفس انسانی کی رغبت وشہوت تو بہت طاقتور ہے۔ یہ محض اللہ اور یوم آخرت پر ان کا مضبوط ایمان ویقین تھا

اور اللہ تعالیٰ کی خشیت تھی جس نے انہیں اتنی بڑی آزمائش سے بعافیت وخیریت نکال لیا۔ آخری عمر میں ربیع پر فالج کا حملہ ہوا اور ان کا ایک پہلو کمزور ہو گیا۔ اس حالت میں بھی وہ نماز مسجد ہی میں حاضر ہ

و کر پڑھا کرتے تھے۔ دو آدمی انہیں سہارا دے کر مسجد میں لاتے اور وہ نماز باجماعت ادا کرتے ۔ ان سے کہا گیا: اللہ تعالیٰ نے تو آپ کو رخصت عطا

کی ہے آپ گھر پر نماز کیوں ادا نہیں کر لیتے؟ وہ کہتے: میرے بھائیو! میں جب حی علی الفلاح کی ندا سنتا ہوں تو پھر کیسے اس پر لبیک نہ کہوں۔(ش س م)

Reply